Revelation of John 21
نیا آسمان اَور نئی زمین
1پھر مَیں نے”ایک نیا آسمان اَور ایک نئی زمین“ ▼▼21:1 یَشع 65:17
کو دیکھا، کیونکہ پہلا آسمان اَور پہلی زمین ختم ہو گیٔے تھے اَور کویٔی سمُندر بھی مَوجُود نہ تھا۔ 2پھر مَیں نے شہر مُقدّس یعنی نئے یروشلیمؔ کو خُدا کے پاس سے آسمان سے اُترتے دیکھا جو اُس دُلہن کی مانند آراستہ تھا جِس نے اَپنے شوہر کے لیٔے سنگار کیا ہو۔ 3پھر مَیں نے تختِ الٰہی پر سے کسی کو بُلند آواز سے یہ کہتے سُنا،”دیکھو! اَب خُدا کی قِیام گاہ آدمیوں کے درمیان ہے اَور وہ اُن کے ساتھ سکونت کرےگا۔ اَور وہ اُس کے لوگ ہوں گے اَور خُدا خُود اُن کے ساتھ رہے گا اَور اُن کا خُدا ہوگا۔ 4’اَور وہ اُن کی آنکھوں کے سارے آنسُو پونچھ دے گا۔ پھر وہاں نہ موت باقی رہے گی‘ ▼▼21:4 یَشع 25:8
نہ ماتم نہ آہ و نالہ، نہ کویٔی درد باقی رہے گا کیونکہ جو پہلی چیزیں تھیں مِٹ جایٔیں گی۔“ 5تَب اُس نے جو تخت نشین تھا مُجھ سے فرمایا،”دیکھ! میں سَب کچھ نیا بنا رہا ہُوں۔“پھر خُدا نے فرمایا،”لِکھ لے کیونکہ یہ باتیں حق اَور مُعتبر ہیں۔“ 6پھر اُس نے مُجھ سے کہا،”ساری باتیں پُوری ہو گئیں ہیں۔ میں اَلفا اَور اَومیگا یعنی اِبتدا اَور اِنتہا ہُوں۔ میں پیاسے کو آبِ حیات کے چشمہ سے مُفت پِلاؤں گا۔ 7جو غالب آئے گا وہ اِن سَب چیزوں کا وارِث ہوگا۔ اَور مَیں اُن کا خُدا ہُوں گا اَور وہ میرے فرزند ہوں گے۔ 8مگر بُزدِلوں، بےاِعتقادو، گھِنونوں، قاتلوں، زناکاروں، جادُوگروں، بُت پرستوں اَور سَب جھوٹوں کی جگہ آگ اَور گندھک سے جلنے والی جھیل میں ہوگی۔ یہ دُوسری موت ہے۔“ نیا یروشلیمؔ، برّہ کی دُلہن
9پھر اُن سات فرشتوں میں سے جِن کے پاس آخِری سات آفتوں سے بھرے ہویٔے پیالے تھے، ایک نے آکر مُجھ سے کہا کہ آ،”مَیں تُجھے دُلہن یعنی برّہ کی بیوی دِکھاؤں۔“ 10اَور وہ مُجھے رُوح میں ایک بڑے اُونچے پہاڑ پر لے گیا اَور مُجھے شہرِ مُقدّس یروشلیمؔ کو خُدا کے پاس سے آسمان سے نیچے اُترتے دِکھایا۔ 11اُس میں خُدا کا جلال تھا اَور اُس کی چمک نہایت ہی قیمتی پتّھر، یعنی اُس یَشب کی طرح تھی جو بِلّور کی طرح شفّاف ہوتاہے۔ 12اُس کی فصیل بہت بڑی اَور اُونچی تھی اَور اُس میں بَارہ پھاٹک تھے جِن پر بَارہ فرشتے تعینات تھے۔ بَارہ پھاٹکوں پر بنی اِسرائیلؔ کے بَارہ قبیلوں کے نام لکھے ہویٔے تھے۔ 13تین پھاٹک مشرق کی طرف، تین شمال کی طرف، تین جُنوب کی طرف اَور تین مغرب کی طرف تھے۔ 14شہر کی فصیل بَارہ بُنیادوں پر قائِم تھی جِن پر برّہ کے بَارہ رسولوں کے نام لکھے ہویٔے تھے۔ 15اَورجو فرشتہ مُجھ سے مُخاطِب تھا اُس کے پاس شہر اَور اُس کے پھاٹکوں اَور اُس کی فصیل کی پیمائش کرنے کے لیٔے سونے کی ایک جریب تھی۔ 16اَور وہ شہر مُربّع شکل کی تھا یعنی اُس کا طُول اَور عرض برابر تھا۔ اُس نے جریب سے شہر کی پیمائش کی تو وہ تقریباً دو ہزار چار سَو چودہ کِلومیٹر لمبا، اِتنا ہی چوڑا اَور اُونچا تھا۔ 17پھر فرشتہ نے اِنسانی پیمائش کے مُطابق فصیل کی پیمائش کی تو اُسے ایک سَو چوالیس ہاتھ یعنی پَینسٹھ مِیٹر پایا۔ 18وہ فصیل سنگِ یَشب سے بنی ہُوئی تھی اَور شہر صَاف و شفّاف شیشے کی مانند خالص سونے کا بنا ہُوا تھا۔ 19شہر کی فصیل کی بُنیادیں ہر قِسم کے قیمتی جواہر سے مُزیّن تھیں۔ پہلی بُنیاد سنگِ یَشب کی، دُوسری نیلم کی، تیسری شب چراغ کی، چوتھی زُمُرّد کی، 20پانچویں عقِیق کی، چھُٹّی عقِیق احمر کی، ساتویں سُنہرے پتّھر کی، آٹھویں فیروزہ کی، نویں زبرجد کی، دسویں یمنی پتّھر کی، گیارھویں سنگِ سُنبُلی کی، بارہویں یاقُوت کی تھی۔ 21اَور بَارہ پھاٹک بَارہ موتیوں کے تھے یعنی ہر پھاٹک سالِم موتی کا تھا۔ اَور شہر کی شاہراہ شفّاف شِیشَہ کی مانند خالص سونے کی تھی۔ 22مَیں نے شہر میں کویٔی بیت المُقدّس نہ دیکھا کیونکہ قادرمُطلق خُداوؔند خُدا اَور برّہ اُس کے بیت المُقدّس ہیں۔ 23وہ شہر، سُورج اَور چاند کی رَوشنی کا مُحتاج نہیں کیونکہ خُداوؔند کے جلال نے اُسے رَوشن کر رکھا ہے اَور برّہ اُس کا چراغ ہے۔ 24اَور دُنیا کی سَب قومیں اُس کی رَوشنی میں چلے پھریں گی اَور رُوئے زمین کے بادشاہ اُس میں اَپنی شان و شوکت کے سامان اُس میں لائیں گے۔ 25اَور اُس کے پھاٹک کبھی بند نہ ہوں گے کیونکہ وہاں رات نہیں ہوگی۔ 26اَور دُنیا کے تمام لوگوں کی شان و شوکت اَور عزّت کا سامان اُس میں لائیں گے۔ 27اَور اُس میں کویٔی ناپاک چیز یا کویٔی شخص جو شرمناک حرکت کرتا یا جھُوٹی باتیں گڑھتا ہے، ہرگز داخل نہ ہوگا، مگر وُہی ہوں گے جِن کے نام برّہ کی کِتاب حیات میں درج ہیں۔
Copyright information for
UrdUCV