Leviticus 25:25-55
25” ’اَور اگر تمہارا کویٔی ہم وطن اِسرائیلی غربت کی وجہ سے اَپنی مِلکیّت کا کچھ حِصّہ بیچ دے تو اُس کا نزدیکی رشتہ دار آکر اُس ہم وطن کا بیچا ہُوا حِصّہ چھُڑا لے۔ 26تاہم اگر اُس کا بیچا ہُوا حِصّہ چھُڑانے والا کویٔی نہ ہو اَور وہ خُود اِس قدر خُوشحال ہو جائے کہ اُس حِصّہ کو چھُڑانے کے لیٔے اُس کے پاس کافی وسائل ہُوں، 27تو وہ اُس حِصّہ کے بیچے جانے کے وقت سے اُس کی قیمت کا تعیُّن کرکے بقایا رقم خریدنے والے کو لَوٹا دے اَور یُوں وہ پھر سے اَپنی مِلکیّت کا مالک ہو سَکتا ہے۔ 28لیکن اگر اُس میں ادائیگی کا مقدور نہ ہو تو جو کچھ اُس نے بیچا وہ یوویلؔ کے سال تک خریدار کے قبضہ میں رہے گا لیکن یوویلؔ کے سال میں یہ خُود ہی چھُوٹ کر اَپنے اصلی مالک کے پاس لَوٹ جائے گا۔ 29” ’اَور اگر کویٔی شخص کسی فصیلدار شہر میں اَپنے مکان کو بیچتا ہے، تو اُس کی فروخت کے بعد بھی اُسے حق حاصل ہے کہ وہ ایک سال کے پُورا ہونے سے پہلے اُسے چھُڑا سکےگا۔ 30اَور اگر پُورے ایک سال کی میعاد کے اَندر اِسے چھُڑایا نہ جایٔے تو اُس فصیلدار شہر کے مکان پر خریدار اَور اُس کی نَسل کا قبضہ ہمیشہ کے لیٔے قائِم ہو جایٔےگا۔ اَور وہ یوویلؔ والے سال میں بھی واپس نہیں کیا جائے گا۔ 31لیکن جو دیہات والے مکان بغیر فصیلوں کے ہُوں اُنہیں کھیتوں کے برابر سمجھا جائے۔ اُنہیں چھُڑایا جا سَکتا ہے اَور وہ یوویلؔ والے سال میں واپس لَوٹا دئیے جایٔیں گے۔ 32” ’لیکن لیویوں کو اَپنے شہروں میں اُن مکانات کو جِن کے وہ مالک ہیں چھُڑانے کا حق ہمیشہ ہوگا۔ 33لہٰذا جو بھی مِلکیّت لیویوں کی ہے، اُنہیں چھُڑایا جا سکتا ہے اَور لیویوں کے کسی بھی شہر میں کویٔی مکان جو بیچ دیا گیا ہو اُسے یوویلؔ والے سال میں واپس لَوٹا دیا جائے گا کیونکہ بنی اِسرائیل کے درمیان وہ مکانات جو لیویوں کے شہروں میں ہیں اُن کی مِلکیّت ہیں۔ 34لیکن اُن کے شہروں کی چراگاہوں کو ہرگز نہ بیچا جائے کیونکہ وہ اُن کی دائمی مِلکیّت ہیں۔ 35” ’اَور اگر تمہارا کویٔی ہم وطن اِسرائیلی مُفلس ہو جائے اَور تمہارے درمیان رہتے ہویٔے بھی تنگ دست ہو تو اُس کی مدد کرنا جَیسا کہ تُم کسی پردیسی یا مُسافر کی کرتے ہو تاکہ وہ تمہارے درمیان بسا رہے۔ 36اَور اُس سے کسی قِسم کا سُود یا فائدہ نہ لینا بَلکہ اَپنے خُدا سے ڈرنا تاکہ تمہارا ہم وطن بھایٔی تمہارے درمیان بسا رہے۔ 37تُم اُسے نہ تو اَپنا رُوپیہ سُود پر دوگے اَور نہ ہی اناج نفع کے لالچ سے دوگے۔ 38مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں جو تُمہیں مِصر سے نکال کر لایا ہُوں تاکہ تُمہیں مُلکِ کنعانؔ دُوں اَور تمہارا خُدا ٹھہروں۔ 39” ’اگر تمہارے درمیان تمہارا ایک اِسرائیلی ہم وطن مُفلس ہو جائے اَور خُود کو تمہارے ہاتھ میں بیچ دے تو اُس سے غُلام کی مانند خدمت نہ لینا۔ 40بَلکہ وہ تمہارے ساتھ ایک مزدُور یا مُسافر کی طرح تمہارے درمیان رہے۔ اَور وہ یوویلؔ کے سال تک تمہاری خدمت کرتا رہے۔ 41پھر سالِ یوویلؔ کے بعد اُسے اَور اُس کے بچّوں کے ساتھ آزاد کردینا تاکہ وہ اَپنی برادری کے پاس اَور اَپنے آباؤاَجداد کی مِلکیّت کی جگہ واپس چلا جائے۔ 42کیونکہ بنی اِسرائیل میرے خادِم ہیں جنہیں میں مِصر سے نکال کر لایاتھا، لہٰذا اُن کو بطور غُلام ہرگز نہ بیچا جائے۔ 43اَور تُم اُن پر سختی سے حُکمرانی نہ کرنا بَلکہ اَپنے خُدا سے ڈرتے رہنا۔ 44” ’تمہارے غُلام اَور تمہاری لونڈیاں اُن قوموں میں سے ہُوں جو تمہارے چَوگرد رہتی ہیں؛ اُن ہی میں سے تُم غُلام اَور لونڈی خریدا کرنا۔ 45اِن کے سِوا تمہارے درمیان عارضی مُسافر اَور اُن کی برادریوں کے اُن افراد میں سے بھی جو تمہارے مُلک میں پیدا ہویٔے ہیں اَور تمہارے ساتھ رہتے ہیں اُن میں سے کچھ کو خرید سکتے ہو اَور وہ تمہاری مِلکیّت ہو سکتے ہیں۔ 46اَور تُم اُنہیں مِیراث کے طور پر اَپنی اَولاد کے نام کر سکتے ہو؛ اَور یُوں اُنہیں عمر بھرکے لیٔے غُلام بنا سکتے ہو لیکن تُم اَپنے اِسرائیلی ہم وطنوں پر سختی سے حُکمرانی نہ کرنا۔ 47” ’اَور اگر تمہارے درمیان کویٔی پردیسی یا عارضی باشِندہ دولتمند ہو جائے اَور تمہارا کویٔی اِسرائیلی بھایٔی مُفلس اَور خُود کو اُس پردیسی یا عارضی باشِندے یا اُس پردیسی کی برادری والوں کے ہاتھ بیچ دے، 48تو بیچے جانے کے بعد بھی وہ چھُڑایا جا سَکتا ہے اَور اُس کے رشتہ داروں میں سے کویٔی اُسے چھُڑا سَکتا ہے، 49اُس کا چچا یا چچیرا بھایٔی یا اُس کے گھرانے کا کویٔی قریبی برادری والا اُسے چھُڑا سَکتا ہے یا اگر وہ خُود مالدار ہو جائے تو وہ اَپنے آپ کو چھُڑا سَکتا ہے۔ 50وہ اَپنے خریدار کے ساتھ اَپنے کو فروخت کر دینے کے سال سے لے کر سالِ یوویلؔ تک کی مُدّت کا شُمار کرے؛ اُس کی رِہائی کی قیمت اُن سالوں کے لیٔے کسی مزدُور کو اَدا کی گئی مزدُوری کی شرح کے حِساب سے طے ہو۔ 51اگر سالِ یوویلؔ تک ابھی بہت سال باقی ہُوں تو اَپنے چھُڑائے جانے کے لیٔے قیمت کا ایک بڑا حِصّہ اَدا کرنا ہوگا۔ 52اَور اگر سالِ یوویلؔ کے آنے میں تھوڑے سال ہی باقی رہ گیٔے ہُوں تو وہ اَپنے مالک کے ساتھ اِن کی گِنتی کرے اَور اُن سالوں کے مُطابق اَپنے چھُڑانے کی قیمت اُسے لَوٹا دے۔ 53اَور وہ اَپنے مالک کے ساتھ کسی مزدُور کی طرح رہے جِس کی اُجرت سال بسال ٹھہرائی جاتی ہو، اَور تُم اِس بات کا ضروُر خیال رکھنا کہ اُس کا مالک اُس پر سختی سے حُکمرانی نہ کرے۔ 54” ’اَور اگر وہ اِن طریقوں میں سے کسی طریقہ سے چھُڑایا نہیں گیا، تو بھی وہ اَور اُس کے بچّے سالِ یوویلؔ میں آزاد کر دئیے جایٔیں گے۔ 55کیونکہ بنی اِسرائیل میرے خادِم ہیں۔ یہ میرے وہ خادِم ہیں جنہیں میں مِصر سے نکال کر لایا ہُوں۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔
Copyright information for
UrdUCV